23 فروری 2013 - 20:30

پاکستان کےوفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ اگر حکومت پنجاب نے لشکر جھنگوی کے خلاف میرے لیٹرز پر عمل کیا ہوتاتو کوئٹہ میں اتنا بڑا سانحہ پیش نہ آتا۔

ابنا: اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق خانیوال کی تحصیل جہانیاں میں پاسپورٹ آفس کا افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے کی 4 دن پہلے اطلاع دے دی تھی۔ اگر وہ نہیں روک سکے تو اس میں کس کا قصور ہے۔ کوئٹہ سانحہ کی ذمہ داری خود لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔ لشکر جھنگوی اور طالبان معصوم لوگوں کو مارتے ہیں، لشکر جھنگوی کے دو گروپ ہیں ایک ملک اسحاق کا اور ایک مولانا احمد لدھیانوی کا جو اہل سنت والجماعت کے نام سے دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ملک اسحاق کو ہاوٴس اریسٹ کیا گیا اس طرح ایکشن میں جان نہیں آتی۔ لشکر جھنگوی کے خلاف پنجاب حکومت نے جو ایکشن لیا وہ لولا لنگڑا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف سارے صوبوں کو ایکشن لینا ہوگا۔